24 اگست، 2026، 3:35 PM

یوپی انتخابات،مسلم اثروالے حلقوں پراویسی کی نظر،اتحاد نہ ہوا تو اکیلے میدان میں اترنے کی تیاری

یوپی انتخابات،مسلم اثروالے حلقوں پراویسی کی نظر،اتحاد نہ ہوا تو اکیلے میدان میں اترنے کی تیاری

اے آئی ایم آئی ایم کی پہلی ترجیح اتحاد، سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق نہ ہوا تو200 سے250 اسمبلی نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری، پارٹی نے فی الحال پریاگ راج، بہرائچ، سہارنپور، مرادآباد، رام پور اور امروہہ کی کئی اسمبلی نشستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی ریاست میں اپنا سیاسی کھاتہ کھولنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ پارٹی کی پہلی ترجیح کسی سیاسی اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنا ہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں اے آئی ایم آئی ایم اکیلے انتخابی میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی اترپردیش کی انتخابی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی ان اسمبلی حلقوں پر خاص توجہ دے رہی ہے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ مغربی اترپردیش سے لے کر ترائی علاقے کے بہرائچ تک اویسی خود دورہ کرکے پارٹی کے امکانات کا جائزہ لے چکے ہیں۔ پارٹی نے فی الحال پریاگ راج، بہرائچ، سہارنپور، مرادآباد، رام پور اور امروہہ کی کئی اسمبلی نشستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ ان علاقوں میں تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اتحاد نہ ہوا تو200سے250 نشستوں پر مقابلہ

پارٹی کی کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے ان علاقوں میں اپنا سیاسی بنیاد مضبوط کیا جائے جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد انتخابی مساوات کو متاثر کرسکتی ہے۔ اتحاد کے حوالے سے ابھی صورتحال واضح نہیں ہے، اس لیے اے آئی ایم آئی ایم نے اپنے تمام متبادل کھلے رکھے ہیں۔ پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق، اگر کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں ہوتا تو اے آئی ایم آئی ایم اپنے دم پر تقریباً 200 سے 250 اسمبلی نشستوں پر الیکشن لڑنے کی تیاری کرسکتی ہے۔

News ID 1940836

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha